Search Results for "لِّقَآئِهِۦ"
View Aspects
أُو۟لَٰٓئِكَ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ بِـَٔايَٰتِ رَبِّهِمْ وَلِقَآئِهِۦ فَحَبِطَتْ أَعْمَٰلُهُمْ فَلَا نُقِيمُ لَهُمْ يَوْمَ ٱلْقِيَٰمَةِ وَزْنًا
2:218; 3: 23; 7:148; 9:69.
2:218; 3: 23; 7:148; 9:69.
2:218; 3:23; 7:148; 9:69.
Commentary:
As all their labour is for this life and they have completely disregarded the life to come, so no sign or trace of their works will be left in this world and on the Last Day also their deeds will prove quite futile.
c
2:218; 3: 23; 7:148; 9:69.
b
2:218; 3:23; 7:148; 9:69.
2141
Commentary:
As all their labour is for this life and they have completely disregarded the life to come, so no sign or trace of their works will be left in this world and on the Last Day also their deeds will prove quite futile.
b
2:218; 3: 23; 7:148; 9:69.
وَٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ بِـَٔايَٰتِ ٱللَّهِ وَلِقَآئِهِۦٓ أُو۟لَٰٓئِكَ يَئِسُوا۟ مِن رَّحْمَتِى وَأُو۟لَٰٓئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ
18:106; 30:17; 32:11.
اصل میں تو اللہ تعالیٰ کی ملاقات مومنوں کو ہوتی ہے۔ مگر کافروں کے لئے وہ عذاب کی صورت میں ظاہر ہوتی ہے۔ اور جب کبھی ان کے دل میں ندامت پیدا ہو تو رحم اور معافی کی تدبیروں کے ذریعہ سے ظاہر ہوتی ہے۔ پس اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ جو لوگ اللہ تعالیٰ کی ملاقات کے منکر ہوتے ہیں درحقیقت وہ یہ سمجھتے ہیں کہ خداتعالیٰ کبھی ہمیں معاف نہیں کرے گا اور رحمت کے ذریعہ سے اپنا جلوہ ہم پر ظاہر نہیں کرے گا۔ پس خداتعالیٰ بھی ان کے یقین کے مطابق ان سے سلوک کرتا ہے اور دردناک عذاب میں مبتلا کرتا ہے۔
18:106; 30:17; 32:11.
18:106; 30:17; 32:11.
c
18:106; 30:17; 32:11.
4
اصل میں تو اللہ تعالیٰ کی ملاقات مومنوں کو ہوتی ہے۔ مگر کافروں کے لئے وہ عذاب کی صورت میں ظاہر ہوتی ہے۔ اور جب کبھی ان کے دل میں ندامت پیدا ہو تو رحم اور معافی کی تدبیروں کے ذریعہ سے ظاہر ہوتی ہے۔ پس اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ جو لوگ اللہ تعالیٰ کی ملاقات کے منکر ہوتے ہیں درحقیقت وہ یہ سمجھتے ہیں کہ خداتعالیٰ کبھی ہمیں معاف نہیں کرے گا اور رحمت کے ذریعہ سے اپنا جلوہ ہم پر ظاہر نہیں کرے گا۔ پس خداتعالیٰ بھی ان کے یقین کے مطابق ان سے سلوک کرتا ہے اور دردناک عذاب میں مبتلا کرتا ہے۔
a
18:106; 30:17; 32:11.
d
18:106; 30:17; 32:11.
وَلَقَدْ ءَاتَيْنَا مُوسَى ٱلْكِتَٰبَ فَلَا تَكُن فِى مِرْيَةٍ مِّن لِّقَآئِهِۦ ۖ وَجَعَلْنَٰهُ هُدًى لِّبَنِىٓ إِسْرَٰٓءِيلَ
2:88; 17:3; 23:50.
2:88; 17:3; 23:50.
2:88; 17:3; 23:50.
Commentary:
The pronoun ہ in the expression لقائه may be taken as referring to God or to the Book. In the second case the meaning would be, "be not therefore in doubt about receiving a perfect Book thyself."
b
2:88; 17:3; 23:50.
b
2:88; 17:3; 23:50.
3071
Commentary:
The pronoun ہ in the expression لقائه may be taken as referring to God or to the Book. In the second case the meaning would be, "be not therefore in doubt about receiving a perfect Book thyself."
a
2:88; 17:3; 23:50.